انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے ضلع ہاتھرس میں مبینہ گینگ ریپ کے بعد 20 سالہ دلت لڑکی کی ہلاکت اور پھر خاندان کی غیر موجودگی میں آخری رسومات ادا کرنے کے واقعے پر ابھی عوام کا غم و غصے کا اظہار جاری ہی تھا کہ اسی ریاست کے علاقے بلرام پور سے ایسا ہی ایک اور مبینہ واقعہ سامنے آیا ہے۔بلرام پور میں مبینہ گینگ ریپ کے بعد ہلاک ہونے والی لڑکی کی والدہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کی بیٹی ایک مقامی کالج میں اخلہ لینے گئی تھی اور واپسی پر اسے تین یا چار افراد نے زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اسے ریپ کرنے سے پہلے کوئی نشہ آور چیز دی گئی۔لڑکی کی والدہ کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے میری بیٹی کی ٹانگ توڑ دی، اس کی کمر توڑ دی اور اس کے بعد لڑکی کو رکشے میں بٹھا کر گھر بھیج دیا۔‘گھر والوں کا کہنا تھا کہ لڑکی کی حالت بہت خراب تھی لیکن وہ کچھ بول نہیں پا رہی تھی۔ وہ اسے ہسپتال لے کر گئے لیکن لڑکی کی حالت اتنی بگڑ گئی تھی کہ ڈاکٹر نے اسے کسی بڑے ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا تاہم وہ وہاں تک نہ پہنچ سکی اور راستے میں ہی دم توڑ گئی۔یہ بھی پڑھیےکیا پولیس مقابلے ریپ کو ختم کر سکتے ہیں؟جبکہ بلرام پور پولیس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک 22 سالہ لڑکی کے گھر والوں نے بتایا کہ لڑکی ایک نجی کمپنی میں کام کرتی تھی۔ لڑکی منگل کے روز کام سے دیر شام تک واپس نہیں آئی تو گھر والوں نے اس سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اس سے رابطہ نہیں ہو پایا۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی ایک رکشے پر آئی اور اس کے ہاتھ میں گلوکوز چڑھانے والی سوئی لگی تھی اور اس کی حالت بہت خراب لگ رہی تھی۔ گھر والے اسے ہسپتال لے کر گئے لیکن وہ راستے میں ہی چل بسی۔‘Twitter پوسٹ کا اختتام, 1بلرام پولیس کے مطابق لڑکی کے گھر والوں نے دو افراد کو اس واقعہ میں ملوث قرار دیتے ہوئے نامزد کیا ہے اور پولیس نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے انھیں گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔اگرچہ مبینہ گینگ ریپ کا یہ واقعہ بھی ہاتھرس میں ہونے والے مبینہ گینگ ریپ کی طرح منگل کو ہی پیش آیا تھا تاہم مقامی میڈیا پر یہ خبر جمعرات کو نشر کی گئی۔اس واقعہ کی خبر آتے ہی انڈین سوشل میڈیا صارفین نے حکومتِ وقت پر کڑی تنقید کا سلسلہ شروع کر دیا اور اس حوالے سے کئی ہیش ٹیگ دن بھر ٹرینڈ کرتے رہے۔ اس بحث میں حزب اختلاف کے سیاستدانوں اور کارکنوں سمیت عام شہریوں نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔







Copyright © 2026 Jokhim Urdu. Designed & Developed by Digital Clik

COMMENTS